شام میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد شروع

ام میں گذشتہ دو روز سے جاری فضائی حملوں کے بعد جنگ بندی کا آغاز ہو گیا ہے، تاہم یہ معلوم نہیں ہے کہ اس پر کس حد تک عمل درآمد کیا جائے گا۔

اگر یہ معاہدہ سات دنوں تک برقرار رہا تو امریکہ اور روس جہادی عسکریت پسندوں کے خلاف مشترکہ حملے کریں گے۔

شامی فوج کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کر رہی ہے، تاہم باغیوں کے ردِ عمل کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

٭ شام میں امن کا طویل اور پُرخطر سفر

٭ امریکہ اور روس شام میں جنگ بندی کےمعاہدے پر متفق

انسانی حقوق کی تنظیموں کو امید ہے کہ جنگ سے سخت متاثرہ علاقوں، خاص طور پر حلب میں امدادی سامان پہنچا سکیں گے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے خبردار کیا ہے کہ یہ متحد شام میں امن کا آخری موقع ہو سکتا ہے۔

واشنگٹن میں وزارتِ خارجہ میں بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بعض ابتدائی رپورٹوں کے مطابق ’تشدد میں کمی آئی ہے۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ فی الحال معاہدے کے بارے میں حتمی تخمینہ لگانا قبل از وقت ہو گا۔

جنگ بندی معاہدے کے نافذالعمل ہونے کے تھوڑی دیر بعد شامی فوج نے اعلان کیا کہ وہ فوجی کارروائیوں کو سات دن کے لیے ’منجمد‘ کر رہے ہیں۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق بظاہر اکثر محاذوں پر امن قائم ہے۔

یہ معاہدہ کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں طے پایا ہے۔

شامی میڈیا نے صدر بشارالاسد کا بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

شام میں باغی گروہ فری سیریئن آرمی نے امریکی حکومت کو ایک خط میں کہا ہے کہ وہ اس جنگ بندی میں مثبت انداز میں معاونت کریں گے تاہم ان کا خیال ہے کہ اس سے شامی حکومت کو فائدہ پہنچے گا۔

 
کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں طے پایا

ادھر ایک اور طاقتور تنظیم احرار الشام نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ چھ سال سے جاری ان مسائل کے ’کچے پکے حل‘ تسلیم نہیں کر سکتے۔

یاد رہے کہ اس معاہدے کے اعلان کے بعد باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں فضائی حملے کیے گئے ہیں جن میں کم سے کم 100 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شامی حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ادلب میں ایک بازار پر حملے میں 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ حلب میں ہونے والے فضائی حملوں میں 45 لوگ مارے گئے ہیں۔

ترکی اور یورپی یونین نے جنگ بندی کے اس منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس حوالے سے مزید اقدامات کی بھی ضرورت پر زور دیا تھا تاہم ترک صدر رجب طیب اردوغان نے یہ بھی بیان دیا ہے کہ ہمسایہ ملک شام میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کو شکست دینا ترکی کی ذمہ داری ہے۔

شام میں شورش کا آغاز پانچ سال پہلے صدر بشارالاسد کے خلاف بغاوت سے ہوا اور اب تک اس میں کم سے کم تین لاکھ سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں

  • ’دولتِ اسلامیہ کو شکست دینا ہماری ذمہ داری ہے‘
    11 ستمبر 2016
  • شام: جنگ بندی سے قبل فضائی حملے، 100 افراد ہلاک
    11 ستمبر 2016
  • شام: امریکہ اور روس جنگ بندی کےمعاہدے پر متفق
    10 ستمبر 2016
  • شام میں فضائی کارروائی میں سینیئر جنگجو رہنما ہلاک
    9 ستمبر 2016
  • شام میں امن کا طویل اور پُرخطر سفر
    8 ستمبر 2016

اہم خبریں

امریکی فوجی جنوبی فلپائن سے نکل جائیں: صدر دوتیرتے

فلپائنی صدر نے کہا ہے کہ امریکی خصوصی فوجی دستوں کو جنوبی فلپائن سے نکلنا ہو گا، تاہم امریکہ کے مطابق اسے فلپائن کی جانب سے اس سلسلے میں باضابطہ مطالبہ موصول نہیں ہوا۔

13 ستمبر 2016

امریکہ کا دولتِ اسلامیہ کے اہم رہنما کی ہلاکت کا دعویٰ

13 ستمبر 2016

فلوریڈا میں ایک مسجد کو نذرِ آتش کر دیا گیا

12 ستمبر 2016

فیچر اور تجزیے

تحریکِ انصاف کی سولو فلائٹ؟

فاٹا میڈیا اور پارلیمان کا موضوع نہیں

’گائے کھانے کی وجہ سے بےعزت کیا گیا‘

’بابا‘ اور ’جاناں‘ کے بغیر عید

شادی کا جزیرہ

نائن الیون نے کیا دیا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *